تحریک تحفظ آئین پاکستان کے وفد کو راولاکوٹ جانے سے روک دیا، اپوزیشن قیادت کا چکیاں میں دھرنا

ویب ڈیسک
تازہ ترین

تحریک تحفظ آئین پاکستان کے وفد کو راولا کوٹ جانے سے روک دیا گیا، جہاں چکیاں کے مقام پر دھرنا دے دیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق تحریک تحفظ آئین پاکستان کا اعلیٰ سطحی وفد قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی کی سربراہی میں راولاکوٹ کے لیے روانہ ہوا، جہاں وفد نے عوامی ایکشن کمیٹی کے جاری دھرنے میں شرکت اور اظہارِ یکجہتی کرنا تھا۔
ترجمان کے مطابق وفد عوامی حقوق، جمہوری آزادیوں اور آئینی بالادستی کے تحت مطالبات کی حمایت کا پیغام دینے کے لیے جا رہا تھا۔
اپوزیشن کے اس وفد میں قائد حزب اختلاف سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر اور تحریک کے ترجمان حسین احمد یوسفزئی بھی شامل تھے۔ ترجمان کے مطابق وفد نے راولاکوٹ میں عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت سے ملاقات اور دھرنے کے شرکا سے خطاب بھی کرنا تھا۔
ترجمان کے مطابق آزاد کشمیر میں دھرنے سے اظہارِ یکجہتی کے لیے جانے والے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے وفد کو کہوٹہ کے مقام پر پولیس نے روک لیا۔ وفد کے اراکین نے پولیس حکام سے استفسار کیا کہ انہیں کس قانونی جواز کے تحت روکا جا رہا ہے، جس پر پولیس اہلکاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں وفد کو آگے جانے سے روکنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پنڈی کہوٹہ روڈ پر اسلام آباد پولیس نے اپوزیشن قیادت کو آزاد کشمیر جانے سے روکا، جس کے بعد پولیس اور اپوزیشن رہنماؤں کے درمیان مذاکرات جاری رہے۔ پولیس نے شاہد خاقان عباسی سے کہا کہ ناکہ لگا دیا گیا ہے ، انہیں آگے جانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اس موقع پر شاہد خاقان عباسی، محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس نے پولیس حکام سے گفتگو کی۔
اسلام آباد پولیس کی جانب سے راستہ روکنے کے بعد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں نے چکیاں، کہوٹہ میں موقع پر ہی دھرنا دے دیا۔ دھرنے میں قائد حزب اختلاف قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی اور قائد حزب اختلاف سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس سمیت دیگر اپوزیشن رہنما بھی موجود ہیں۔
نمایاں خبریں
امریکا، ایران مذاکرات میں پیش رفت، عالمی منڈی میں تیل سستا

اے این ایف کا منشیات فروشوں کیخلاف شکنجہ، 316 کلوگرام سے زائد منشیات ضبط، 5 ملزمان گرفتار

صدر ٹرمپ کی مالیاتی رپورٹ منظرِ عام پر، اربوں ڈالر آمدن کا انکشاف

تجارتی اور توانائی مفادات نے بھارت کی ایران پالیسی کا رخ بدل دیا؟

دفاعی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، ایرانی وزیر دفاع

Automate. Scale. Grow with Webrix.
Helping businesses grow digitally