امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا رکھنا چاہتا ہے، تاہم واشنگٹن کسی صورت ایران کو آبنائے ہرمز پر کنٹرول قائم کرنے یا عالمی بحری آمدورفت محدود کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں آسیان اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ ’ہم اب بھی سفارت کاری کے لیے تیار ہیں، لیکن ایران کا عالمی آبی گزرگاہ پر اپنی شرائط نافذ کرنا ناقابل قبول ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ ایران عالمی تجارتی جہازوں کو نشانہ بنا رہا ہے اور یہ طے کرنا چاہتا ہے کہ کون سا جہاز آبنائے ہرمز سے گزر سکتا ہے اور کون سا نہیں، جبکہ امریکا اور دیگر ممالک اس صورتحال کو ہرگز قبول نہیں کریں گے۔
روبیو نے زور دیا کہ آبنائے ہرمز صرف امریکا ہی نہیں بلکہ دنیا کے دیگر ممالک کے لیے بھی انتہائی اہم تجارتی راستہ ہے، اس لیے عالمی برادری کو بھی اس معاملے پر مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔
ایک سوال کے جواب میں امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کی معیشت اور فوج کو حالیہ امریکا اسرائیل جنگ میں شدید نقصان پہنچا ہے۔ ان کے مطابق تہران نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران اپنی قومی ترقی کے بجائے وسائل میزائلوں، ڈرون پروگرام اور اپنی حمایت یافتہ مسلح تنظیموں پر خرچ کیے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی فوجیوں کی بڑھتی ہوئی ہلاکتوں اور زخمیوں کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر روبیو نے کہا کہ جنگی علاقوں میں خطرات ہمیشہ موجود رہتے ہیں، تاہم امریکا اپنے مفادات اور اتحادیوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔
مارکو روبیو کے مطابق اگر ایران واقعی سنجیدہ مذاکرات چاہتا ہے تو امریکا بھی بات چیت کے لیے تیار ہے، لیکن خطے میں عالمی جہاز رانی اور بین الاقوامی تجارت کو خطرے میں ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔








