LogoWednesday, July, 22, 2026

News Point PK

پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے خلاف جماعت اسلامی میدان میں، شاہراہیں بند کرنے کا فیصلہ

پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے خلاف جماعت اسلامی میدان میں، شاہراہیں بند کرنے کا فیصلہ

ویب ڈیسک

21-Jul-2026
|

پاکستان

پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے خلاف جماعت اسلامی میدان میں، شاہراہیں بند کرنے کا فیصلہ

لاہور: جماعت اسلامی نے مہنگائی، پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور اس پر عائد لیوی کے خلاف ملک بھر میں شاہراہیں بند کرنے کا اعلان کردیا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے منصورہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے پوری قوم مشکلات کا شکار ہے۔ جنگ کو بہانہ بنا کر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھائی جارہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شہباز شریف صاحب بتائیں لیوی سمیت دیگر ٹیکسوں کا جنگ سے کیا تعلق ہے؟ اگر ٹیکسز ختم کردیے جائیں تو پیٹرول کی قیمت 250 روپے فی لیٹر سے زیادہ نہیں ہوسکتی۔ اب نیا کام یہ شروع کیا کہ پیٹرولیم قیمیتوں کا تعین روزانہ کی بنیاد پر کیا جارہا ہے۔ یہ اختیار حکومت نے اوگرا کو دے دیا ہے۔

اس موقع پر حافظ نعیم نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف 7 اگست کو ملک بھر کی شاہراہیں بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں پہلے کارنر میٹنگز اور دھرنے ہوں گے، پھر 7 اگست کو صوبائی دارالحکومتوں میں اہم شاہراہیں بند ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ یہ احتجاج پرامن ہوگا، اس دوران ایمبولینسز کو راستہ دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے احتجاج روکنے کی کوشش کی تو حالات حکومت مخالف تحریک کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔ اس احتجاج میں تمام مکاتب فکر، تاجروں، صنعتکاروں، وکلا، طلبہ، علما اور نوجوانوں کو شریک کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ چاروں صوبوں اور ضلعی ہیڈکوارٹرز میں اہم شاہراہوں پر احتجاج ہوگا۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ قانون کے مطابق پیٹرولیم لیوی کا اوگرا سے کوئی تعلق نہیں۔ حکومت پیٹرولیم لیوی کی مد میں سالانہ تقریباً 1800 ارب روپے وصول کر رہی ہے ، اس کا بوجھ موٹر سائیکل سواروں، مزدوروں اور متوسط طبقے پر ڈالا جا رہا ہے۔

انہوں نے اسے معاشی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ باقاعدہ ٹیکس نیٹ میں شامل نہیں، ان سے بھی مختلف ذرائع سے ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی دفاعی بجٹ کے خلاف نہیں، تاہم ججوں، اعلیٰ فوجی افسران، بیوروکریسی، ارکان اسمبلی اور دیگر اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کو دی جانے والی مراعات کی مخالف ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے ٹیکسوں سے اشرافیہ کو مراعات دی جا رہی ہیں جبکہ عام آدمی مہنگائی کا بوجھ اٹھا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بنیادی مراکز صحت اور سرکاری اسکول فروخت کیے جا رہے ہیں ۔ ان کے نام تبدیل کر کے عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں غربت میں اضافہ ہوا ہے جبکہ حکومتی ترجیحات عوامی مسائل کے بجائے دیگر منصوبوں پر مرکوز ہیں۔

رپورٹ کے مطابق حافظ نعیم نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ آئی پی پیز سے متعلق معاہدوں پر ہونے والی پیش رفت عوام کے سامنے لائی جائے۔ ملک میں بجلی پیدا کرنے کی استعداد موجود ہونے کے باوجود لوڈشیڈنگ جاری ہے ۔ عوام ایسی بجلی کی بھی قیمت ادا کر رہے ہیں جو پیدا ہی نہیں ہو رہی۔

نمایاں خبریں

Still Running Your Business Manually ?

Automate. Scale. Grow with Webrix.

Custom Management Systems
Web & App Development
AI Automation Solutions
Chat on WhatsApp