پکڑی گئی ٹیمپرڈ گاڑیاں وفاقی اداروں کو 15 اور صوبائی اداروں کو 50 فیصد قیمت پر دینے کا فیصلہ

ویب ڈیسک
خاص خبریں

وفاقی حکومت نے پکڑی گئی ٹیمپرڈ گاڑیاں سرکاری اداروں کو رعایتی قیمت پر دینے کا فیصلہ کرلیا ہے، جس کے تحت وفاقی اداروں کو 15 فیصد اور صوبائی اداروں کو 50 فیصد قیمت پر گاڑیاں ملیں گی۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی کسٹمز ڈپارٹمنٹ کی جانب سے پکڑی گئی ٹیمپرڈ گاڑیاں رعایتی قیمت پر سرکاری اداروں کو دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
وفاقی اداروں کو 15 فیصد، صوبائی اداروں کو 50 فیصد قیمت پر گاڑیاں ملیں گی اور 1800 سی سی سے زائد گاڑیاں صرف اینٹی اسمگلنگ یونٹس کے لیے مخصوص ہوں گی تاہم کسی فرد کو ٹیمپرڈ گاڑی فروخت نہیں کی جائے گی۔
اس حوالے سے بتایا گیا کہ ٹیمپرڈ گاڑیوں کی ادائیگی صرف سرکاری اکاوٴنٹس کے ذریعے ہوگی، 5 سال تک فروخت نہ ہونے والی گاڑیاں تلف کر دی جائیں گی،جس کے لیے تمام گاڑیوں کا ڈیجیٹل ریکارڈ اور مانیٹرنگ سسٹم متعارف کروادیا گیا ہے۔
دستاویز کے مطابق ایف بی آرنے کسٹمز آرڈر نمبر چار جاری کردیا ہے جس کے تحت وفاقی حکومت نے کسٹمز کے زیر تحویل ضبط شدہ ٹیمپرڈ گاڑیوں کے استعمال اور فروخت کے حوالے سے نیا ضابطہ جاری کر دیا ہے اور خلاف ورزی پر گاڑی ضبط اور افسران کے خلاف کارروائی ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق ایف بی آر کی جانب سے جاری کسٹمز جنرل آرڈر میں بتایا گیا ہے کہ نئے ضابطے کے تحت 1800 سی سی سے زائد ٹیمپرڈ گاڑیاں صرف اینٹی اسمگلنگ اور انفورسمنٹ یونٹس استعمال کر سکیں گے جبکہ 1800 سی سی تک کی گاڑیاں محدود طور پر گریڈ 19 کے افسران کو دی جا سکیں گی۔
مشکل اور سرحدی علاقوں میں تعینات کسٹمز فارمیشنز کو بھی ضرورت کے تحت بڑی گاڑیوں کے استعمال کی اجازت دی جا سکے گی۔
ایف بی آر کے کسٹمز ونگ کو ان گاڑیوں کی الاٹمنٹ میں ترجیح حاصل ہوگی اور ہر فارمیشن اپنی ضروریات کے مطابق درخواست دے گی جس کی منظوری ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی دے گی۔
رپورٹ کے مطابق ضبط شدہ گاڑیوں کا مکمل ریکارڈ، تصاویر، فرانزک رپورٹ اور قانونی حیثیت ایک ڈیجیٹل سسٹم میں محفوظ کیا جائے گا تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے، ایف بی آر کی ضروریات پوری ہونے کے بعد رہ جانے والی گاڑیاں وفاقی اور صوبائی سرکاری اداروں کو فروخت کی جا سکیں گی۔
وفاقی اداروں کو یہ گاڑیاں مقررہ قیمت کے 15 فیصد جبکہ صوبائی اداروں کو 50 فیصد قیمت پر فراہم کی جائیں گی تاہم کسی بھی صورت میں یہ گاڑیاں کسی فرد کو ذاتی استعمال کے لیے فروخت نہیں کی جائیں گی، ادائیگی صرف سرکاری اکاوٴنٹس کے ذریعے ہوگی اور گاڑی کی حوالگی رجسٹریشن کے بعد ہی ممکن ہوگی اور خریدار ادارے کو تین ہفتوں کے اندر گاڑی وصولی کی تصدیق بھی دینا ہوگی۔
مزید برآں، ان گاڑیوں کے استعمال، فروخت اور حوالگی کی مکمل تفصیلات باقاعدگی سے رپورٹ کی جائیں گی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ضابطے کے مطابق گاڑیوں کی عمر مکمل ہونے پر انہیں ختم (ڈسمینٹل) کیا جائے گا اور5 سال تک فروخت نہ ہونے والی گاڑیوں کو بھی اسی عمل سے گزارا جائے گا، خلاف ورزی کی صورت میں گاڑی کی واپسی، الاٹمنٹ کی منسوخی اور متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی کی جا سکے گی۔
نمایاں خبریں
بانی پی ٹی آئی نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا کیخلاف اپیل پر قانونی مشاورت کیلئے وکلاء سے فوری ملاقات کی درخواست دائر کردی

وفاقی وزیر اویس لغاری نے بجلی مہنگی ہونے کا عندیہ دے دیا

ملک کے مختلف شہروں 6.3 زلزلے کے جھٹکے ، عوام میں خوف و ہراس

پی ٹی آئی نے 9 اپریل کو راولپنڈی لیاقت باغ میں جلسے کی اجازت مانگ لی

ٹینکر نہیں چلیں گے ، آئل ٹینکر کنٹریکٹر ایسوسی ایشن نے کرائے بڑھانے کیلئے ہڑتال کی دھمکی دے دی
