ایران کے صدر مسعود پزیشکیان نے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ رابطوں میں مضبوطی اور فیصلوں میں مشاورت سے متعلق بڑا انکشاف کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق قومی یومِ صنعت و کان کنی کی تقریب سے خطاب میں صدر پزیشکیان نے کہا کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ سپریم لیڈر تک ہماری رسائی اور رابطوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ اب تک کے تمام اقدامات ان کی ہدایات کی روشنی میں منظم کیے گئے ہیں۔ ہمیں اپنے محبوب رہنما کی حمایت کی ضرورت ہے اور ہم پوری قوت کے ساتھ اسی راستے پر آگے بڑھتے رہیں گے۔
رپورٹ کے مطابق صدر پزیشکیان نے قومی اتحاد کو موجودہ حالات میں ایران کی سب سے بڑی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ بحران میں ایرانی صنعت کاروں اور پیداواری شعبے نے غیر معمولی کردار ادا کیا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ غیرملکی پابندیوں اور بیرونی دباؤ کے باوجود صنعت کاروں نے ملک میں معاشی سرگرمیوں کو جاری رکھا جس سے مخالف قوتیں اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
ایرانی صدر نے کہا کہ حکومت صنعت کاروں اور سرمایہ کاروں کے مسائل کے حل کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے اور ملکی پیداوار کو مضبوط بنانا موجودہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی صدر نے داخلی سیاسی حلقوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سفارتی اور مذاکراتی عمل پر غیر ذمہ دارانہ تنقید سے گریز کیا جائے کیونکہ اس سے قومی مفادات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ حکومت کی خارجہ پالیسی اور مذاکراتی حکمت عملی قومی قیادت کی رہنمائی میں طے کی جاتی ہے اور تمام ریاستی اداروں کو اس پر یکسو رہنا چاہیے۔








