LogoTuesday, July, 21, 2026

News Point PK

پانی کے بحران پر وزیراعلیٰ سندھ کا بڑا اقدام، ماہرین پر مشتمل ٹاسک فورس قائم کرنے کا اعلان

پانی کے بحران پر وزیراعلیٰ سندھ کا بڑا اقدام، ماہرین پر مشتمل ٹاسک فورس قائم کرنے کا اعلان

ویب ڈیسک

21-Jul-2026
|

تازہ ترین

پانی کے بحران پر وزیراعلیٰ سندھ کا بڑا اقدام، ماہرین پر مشتمل ٹاسک فورس قائم کرنے کا اعلان

کراچی : وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اعلان کیا ہے کہ صوبائی حکومت پانی سے متعلق مسائل کا جائزہ لینے کے لیے ماہرین پر مشتمل ایک ٹاسک فورس قائم کرے گی، جس میں سندھ طاس معاہدے، 1991 کے پانی کی تقسیم کے معاہدے اور ان پر عملدرآمد میں موجود خامیوں کا جائزہ لیا جائے گا۔

منگل کو کراچی میں منعقدہ پہلی آئی اے پی اور پی ایس او اے بین الاقوامی انشورنس کانفرنس 2026 کے اختتامی سیشن میں شرکت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ٹاسک فورس اس حوالے سے ایک رپورٹ بھی تیار کرے گی کہ سندھ کو ممکنہ طور پر کن نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سندھ کو مسلسل اپنے مختص حصے سے کم پانی ملتا رہا ہے، انہوں نے بھارت کی آبی جارحیت کو پاکستان کے لیے ایک سنگین تشویش قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ہر صوبہ اپنے مقررہ پانی کے حصے کا حق دار ہے تاہم سندھ اور دو دیگر صوبے پانی کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ پنجاب کے پاس اضافی پانی موجود ہے۔

سید مراد علی شاہ نے کہا کہ چولستان کی نہروں سے متعلق فیصلے پہلے ہی کیے جا چکے ہیں اور ان پر عملدرآمد جاری ہے۔ تاہم، سندھ کے اعتراضات دریائے جہلم سے منسلک جلال پور کینال کے معاملے پر مشترکہ مفادات کونسل کے سامنے پیش کیے جا چکے ہیں۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ نے ٹیلی میٹری نظام اور انڈس ریور سسٹم اتھارٹی کے کام کرنے کے طریقہ کار پر بارہا تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ صوبائی کابینہ کا اجلاس جمعرات کو متوقع ہے، جس میں ماہرین کی ٹاسک فورس کے قیام کی تجویز پر غور کیا جائے گا۔

گندم کے حوالے سے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ملک میں گندم کے وافر ذخائر موجود ہیں۔ سندھ نے رواں سال ریکارڈ 49 لاکھ ٹن گندم پیدا کی ہے، جبکہ پنجاب میں بھی گندم کی پیداوار اچھی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کی سالانہ ضرورت تقریباً 17 لاکھ ٹن ہے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت نے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائیوں کے دوران 2 لاکھ ٹن سے زائد گندم برآمد کی ہے، جبکہ پنجاب حکومت بھی ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائی کر رہی ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ درآمدات کا سہارا لینے کے بجائے مقامی طور پر دستیاب گندم مارکیٹ میں جاری کرنے کو یقینی بنایا جائے۔

سید مراد علی شاہ نے 2024 میں گندم کی درآمد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے کاشتکاروں کو نقصان پہنچا اور اگلی فصل کے چکر پر بھی اثر پڑا۔ انہوں نے کہا کہ ہم گندم کی دستیابی یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ اپنے کاشتکاروں کے مفادات کا بھی تحفظ کر رہے ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت مشرق وسطیٰ کی صورتحال میں ہونے والی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کفایت شعاری کے اقدامات کے تحت مارچ میں نافذ کیا گیا ایندھن کی کھپت کا مقررہ حد کا نظام بدستور نافذ ہے جبکہ مزید فیصلے وفاقی حکومت سے مشاورت کے بعد کیے جائیں گے۔

لاپتا بچوں کے معاملے پر مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت متاثرہ خاندانوں کے غم اور اذیت کو پوری طرح سمجھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کو اپنی کوششیں تیز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ صوبائی وزیر داخلہ ذاتی طور پر اس معاملے کی نگرانی کر رہے ہیں۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں اور یقین دلایا کہ حکومت بچوں کی بازیابی کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔

نمایاں خبریں

Still Running Your Business Manually ?

Automate. Scale. Grow with Webrix.

Custom Management Systems
Web & App Development
AI Automation Solutions
Chat on WhatsApp