بلند ٹیکس شرحیں سرمایہ کاری میں رکاوٹ ہیں: ثاقب فیاٖض

ویب ڈیسک
بزنس

کراچی: فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا ہے کہ پاکستان میں اس وقت سرمایہ کاری کے لیے مضبوط مواقع موجود ہیں کیونکہ حالیہ علاقائی صورتحال کے باعث ملک کا امیج بہتر ہوا ہے اور عالمی سرمایہ کار پاکستان میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ غیر مستحکم معاشی پالیسیاں اور بلند ٹیکس شرحیں ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیے بغیر نہ معاشی استحکام ممکن ہے اور نہ ہی ٹیکس اہداف حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
وہ یہ بات ایک عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے کہہ رہے تھے جس کا اہتمام رضوان احسان، قمر سلیم، خرم اشفاق، فیصل ابو بکر اور عمران حسین نے ثاقب فیاض مگوں اور پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین شام لال منگلانی کے اعزاز میں کیا تھا۔
تقریب میں بزنس مین پینل پروگریسو کے جنرل سیکریٹری خرم اعجاز، ممبر سپریم کونسل بی ایم پی پی عدیل احمد صدیقی انڈونیشیا کے قونصل جنرل، ایران کے کمرشل اتاشی، ایف پی سی سی آئی کے عہدیداران امان اللہ پراچہ، شبیر منشا، آصف سخی، ایس آر بی چیئرمین ڈاکٹر واصف علی میمن، اسٹیڈنگ کمیٹی چیئرمین حفیظ الدین، مختلف تجارتی تنظیموں کے نمائندے اور کاروباری رہنما شریک ہوئے۔
آئندہ وفاقی بجٹ اور ریونیو اہداف پر بات کرتے ہوئے ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق حکومت نے آئی ایم ایف کو اگلے مالی سال تک 15 ہزار ارب روپے ٹیکس وصولی کا ہدف حاصل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے، جبکہ رواں سال کا ہدف مکمل طور پر حاصل نہیں ہو سکا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو سمجھنا ہوگا کہ صرف ٹیکس ریونیو بڑھانا کافی نہیں، بلکہ معاشی اور کاروباری سرگرمیوں کو سہولتیں فراہم کرنا ضروری ہے تاکہ پائیدار ریونیو حاصل کیا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلند ٹیکس شرحیں اور پیچیدہ ٹیکس نظام، غیر مستحکم معاشی پالیسیوں کے ساتھ مل کر نہ صرف غیر ملکی سرمایہ کاروں بلکہ مقامی صنعتکاروں کو بھی سرمایہ کاری سے روک رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر معیشت کو سہارا دے رہی ہیں، تاہم طویل مدتی استحکام کے لیے صنعتی ترقی اور برآمدات میں نمایاں اضافہ ضروری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایف پی سی سی آئی نے حکومت کو بجٹ تجاویز پہلے ہی پیش کر دی ہیں اور کاروباری برادری کے تمام اہم مسائل اجاگر کیے ہیں۔
ثاقب مگوں نے حکومت پر زور دیا کہ ٹیکس وصولی کے اہداف بڑھانے کے بجائے کاروباری اور صنعتی سرگرمیوں کے فروغ پر توجہ دی جائے تاکہ معیشت کو پائیدار ترقی کی راہ پر ڈالا جا سکے۔
ثاقب مگوں نے اپنے خطاب میں بی ایم پی پروگریسو گروپ کے قیام اور اس کے وژن پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس گروپ کا مقصد فیڈریشن کے اصل وقار کو بحال کرنا اور ایگزیکٹو کمیٹی اور جنرل باڈی کے اراکین کو فیصلہ سازی میں مؤثر کردار دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مختلف ایسوسی ایشنز سے آنے والے نمائندے اپنے شعبوں کے ماہر ہوتے ہیں لیکن ماضی میں انہیں وہ اہمیت نہیں دی گئی جس کے وہ حق دار تھے۔
انہوں نے کہا کہ بی ایم پی پروگریسو کی قیادت ہمیشہ کارکنوں کی طرح کام کرتی ہے اور گروپ کا مقصد صرف قیادت حاصل کرنا نہیں بلکہ نئے لیڈرز تیار کرنا بھی ہے۔
اس موقع پر انہوں نے سپریم کونسل کے اراکین عدیل صدیقی اور شبیر منشا کی خدمات کو بھی سراہا۔
ثاقب مگوں نے پاکستان کارٹن جنرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین شام لال منگلانی کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی ایسوسی ایشن کے مسائل کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا اور آج ان کی تنظیم حکومتی حلقوں میں مؤثر آواز بن چکی ہے۔
انہوں نے خواتین انٹرپرینیورز کے حوالے سے بھی ایف پی سی سی آئی کے وژن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں خواتین کی سرگرمیوں کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا تھا، تاہم اب حقیقی خواتین کاروباری شخصیات کو پلیٹ فارم فراہم کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فیڈریشن خواتین انٹرپرینیورز کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھے گی اور انہیں رہنمائی، معاونت اور مینٹورشپ فراہم کی جائے گی۔
پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین شام لال منگلانی نے کہا کہ مضبوط دوستی، باہمی اعتماد اور اتحاد کاروباری برادری کی اصل طاقت ہیں، جبکہ تجارتی اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے یکجہتی ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایف پی سی سی آئی اور تجارتی سیاست کے ساتھ ان کا سفر ایک دہائی سے جاری ہے، اور 2016 میں ثاقب فیاض مگوں کی ترغیب کے بعد انہوں نے اپنی ایسوسی ایشن اور کاٹن سیکٹر کے مسائل قومی سطح پر مؤثر انداز میں اٹھائے۔
شام لال منگلانی نے کاروباری رہنماؤں اور گنرز برادری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اعتماد نے انہیں اپنی ایسوسی ایشن کی مؤثر نمائندگی کا موقع دیا۔تتتٹفف
نمایاں خبریں
وزیر داخلہ محسن نقوی کا منیٰ میں پاکستانی حجاج کرام کے کیمپس کا دورہ،حجاج کرام سے ملاقاتیں

عید الاضحیٰ کی آمد، ترسیل کی لاگت میں اضافہ، اشیائے خوردو نوش کی قیمتیں بڑھ گئیں

مقامی صرافہ مارکیٹوں میں سونا سستا، فی تولہ قیمت 4لاکھ 75ہزار 362روپے کی سطح پر آگئی

فواد چوہدری نے فارم 45 کے مطابق شفاف انتخابات اور قومی حکومت کا مطالبہ کردیا

سونے کی فی تولہ قیمت میں 4 ہزار 600 روپے کا بڑا اضافہ

Automate. Scale. Grow with Webrix.
Helping businesses grow digitally