LogoSaturday, October, 10, 2026

News Point PK

قرآن مجید ہدایت اور رحمت کا سرچشمہ

قرآن مجید ہدایت اور رحمت کا سرچشمہ

علامہ حافظ مزمل قادری

24-Sept-2026
|

دین و دنیا

قرآن مجید ہدایت اور رحمت کا سرچشمہ

قرآنِ مجید اللہ رب العزت کی آخری آسمانی کتاب ہے، جو خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر نازل ہوئی۔ یہ صرف ایک مقدس کتاب ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہدایت، رحمت، نصیحت اور کامیابی کا مکمل دستور ہے۔ قرآنِ کریم انسان کو زندگی گزارنے کا ایسا راستہ دکھاتا ہے جو اسے دنیا میں سکون اور آخرت میں کامیابی کی طرف لے جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم کے بارے میں ارشاد فرمایا: "بے شک یہ قرآن اس راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے جو سب سے سیدھا ہے۔" (سورۃ بنی اسرائیل)

قرآنِ مجید کی سب سے بڑی فضیلت یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ اس کی تلاوت بذاتِ خود عبادت ہے اور اس کے ایک ایک حرف پر اجر عطا کیا جاتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص کتاب اللہ کا ایک حرف پڑھتا ہے، اس کے لیے ایک نیکی ہے اور ہر نیکی دس گنا بڑھا دی جاتی ہے۔ آپ ﷺ نے یہ بھی واضح فرمایا کہ "الم" ایک حرف نہیں بلکہ الف ایک حرف، لام ایک حرف اور میم ایک حرف ہے۔

قرآنِ پاک انسان کے دل کو زندہ کرتا ہے۔ جب انسان پریشانی، غم اور مشکلات میں گھِر جاتا ہے تو قرآن کی تلاوت اور اس کے معانی پر غور اسے حوصلہ اور قلبی سکون فراہم کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ "خبردار! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔" قرآنِ کریم انسان کو مایوسی سے نکال کر اللہ کی رحمت پر یقین اور امید کی روشنی عطا کرتا ہے۔

قرآن صرف تلاوت کے لیے نہیں بلکہ سمجھنے اور اپنی زندگی میں نافذ کرنے کے لیے نازل ہوا ہے۔ اس میں عقائد، عبادات، اخلاق، معاملات، معاشرت، عدل، صبر، شکر، والدین کے حقوق، رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک اور انسانیت کے ساتھ بھلائی سمیت زندگی کے مختلف پہلوؤں کے لیے رہنمائی موجود ہے۔

قرآنِ کریم کی ایک عظیم خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہ انسان کے کردار کی اصلاح کرتا ہے۔ قرآن ہمیں جھوٹ، ظلم، تکبر، خیانت، بدگمانی اور ناانصافی سے روکتا ہے جبکہ سچائی، امانت، صبر، عاجزی، عدل، رحم اور حسنِ اخلاق کی ترغیب دیتا ہے۔ اگر انسان قرآن کے احکامات کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لے تو اس کی ذات سے لے کر معاشرے تک میں مثبت تبدیلی پیدا ہوسکتی ہے۔

قرآن سے تعلق صرف رمضان المبارک تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ ہمیں چاہیے کہ روزانہ کچھ وقت تلاوتِ قرآن کے لیے مخصوص کریں، اس کے ترجمے اور تفسیر کا مطالعہ کریں اور یہ غور کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں کیا حکم دے رہا ہے۔ قرآن کی حقیقی برکت اس وقت حاصل ہوتی ہے جب اس کی تلاوت کے ساتھ اس کے پیغام کو سمجھا اور اس پر عمل بھی کیا جائے۔

نبی کریم ﷺ نے قرآن سیکھنے اور سکھانے والوں کے بارے میں فرمایا: "تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور اسے سکھائے۔" اس فرمانِ مصطفیٰ ﷺ سے قرآن کی تعلیم اور اس کی نشر و اشاعت کی عظمت واضح ہوتی ہے۔

ہمیں اپنے گھروں میں قرآنِ کریم کی تلاوت کا ماحول پیدا کرنا چاہیے، بچوں کو ناظرہ، حفظ اور قرآن فہمی کی تعلیم دینی چاہیے اور خود بھی قرآن کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط کرنا چاہیے۔ موبائل فون اور دیگر مصروفیات کے لیے وقت نکالنے والے ہم اگر روزانہ چند منٹ قرآنِ کریم کے لیے نکال لیں تو یہ ہماری دنیا و آخرت دونوں کے لیے عظیم سرمایہ بن سکتا ہے۔

قرآنِ مجید قیامت کے دن اپنے پڑھنے والوں کے لیے شفاعت کا ذریعہ بنے گا۔ لہٰذا خوش نصیب ہے وہ شخص جس کا دل قرآن سے جڑا ہوا ہو، جس کی زبان قرآن کی تلاوت سے تر ہو اور جس کے اعمال قرآن کی تعلیمات کا آئینہ دار ہوں۔

آج ہمیں اپنے معمولات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ اگر ہماری زندگی میں قرآن صرف الماری میں رکھا ہوا نسخہ بن کر رہ گیا ہے تو ہمیں اپنے طرزِ عمل پر غور کرنا چاہیے۔ قرآن کو کھولیے، پڑھیے، سمجھیے، اس پر عمل کیجیے اور دوسروں تک اس کا پیغام پہنچائیے۔

قرآنِ کریم وہ نور ہے جو دلوں کو روشنی، زندگی کو سمت اور انسان کو حقیقی کامیابی کا راستہ عطا کرتا ہے۔ دنیا کی کوئی دولت اس نعمت کا نعم البدل نہیں۔ ہمیں چاہیے کہ قرآن کو اپنی زندگی کا ساتھی بنائیں، کیونکہ قرآن سے مضبوط تعلق ہی ایمان کی مضبوطی، کردار کی پاکیزگی اور آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

نمایاں خبریں

Still Running Your Business Manually ?

Automate. Scale. Grow with Webrix.

Custom Management Systems
Web & App Development
AI Automation Solutions
Chat on WhatsApp