پیرس: فرانس میں تعلیمی نظام کی خستہ حالی، اساتذہ کی کمی اور سرکاری سرمایہ کاری میں اضافے کے مطالبات پر شروع ہونے والا طلبہ کا احتجاج ملک گیر تحریک میں تبدیل ہوگیا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق احتجاج کے بڑے دن ملک کے مختلف شہروں میں طلبہ، اساتذہ اور والدین نے اسکولوں کے باہر مظاہرے کیے، متعدد تعلیمی ادارے بند یا بلاک کردیئے گئے جبکہ بعض مقامات پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔
ہائی اسکول طلبہ کی یونین کے مطابق تقریباً 1800 اسکول بند یا بلاک کیے گئے، تاہم فرانسیسی وزارتِ تعلیم نے تاحال اس تعداد کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔
رپورٹ کے مطابق احتجاجی تحریک تقریباً دو ہفتے قبل پیرس کے پسماندہ مضافاتی علاقوں سے شروع ہوئی تھی، جو بعد ازاں مارسیلے، اسٹراسبرگ، لیون، نانت اور ٹور سمیت دیگر شہروں تک پھیل گئی۔
طلبہ کا کہنا ہے کہ کلاس رومز میں گنجائش سے زیادہ طلبہ، اساتذہ کی مسلسل کمی اور اسکولوں کی خستہ حال عمارتیں تعلیمی معیار کو متاثر کر رہی ہیں۔
ملک گیر احتجاج کے باعث فرانسیسی حکومت کو بڑھتے ہوئے سیاسی اور معاشی دباؤ کا بھی سامنا ہے۔








