آزاد کشمیر کی نئی حکومت نے اپنے 100 روزہ اصلاحاتی پروگرام کے تحت پنجاب کے ’’ستھرا پنجاب‘‘ ماڈل کی طرز پر ’’ستھرا کشمیر‘‘ پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت ریاست بھر میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کا نظام مرحلہ وار نجی شعبے کے سپرد کیا جائے گا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے سیکرٹری مقامی حکومت و دیہی ترقی ارشاد احمد قریشی کی زیر صدارت اجلاس ہوا، جس میں پروگرام پر عملدرآمد کے لیے اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ صفائی کی خدمات کے لیے نجی کمپنیوں کی خدمات حاصل کرنے کی غرض سے ایک ہفتے کے اندر اخبارات میں اشتہارات جاری کیے جائیں گے۔
سیکرٹری مقامی حکومت کے مطابق ہر ضلع کی سطح پر سالڈ ویسٹ مینجمنٹ نجی شعبے کے حوالے کیا جائے گا، جبکہ حکومت اور سرکاری ادارے صفائی کا براہِ راست انتظام چلانے کے بجائے ریگولیٹر کا کردار ادا کریں گے۔ معاہدے کے بعد صفائی کے لیے درکار مشینری، گاڑیاں اور افرادی قوت بھی متعلقہ نجی کمپنیاں فراہم کریں گی۔
پروگرام کے تحت کوڑا کرکٹ جمع کرنے، منتقلی اور محفوظ تلفی کے لیے جامع نظام تشکیل دیا جائے گا، جبکہ صفائی کے نظام میں یکسانیت لانے کے لیے مشینری اور سینٹری ورکرز کے لیے یکساں یونیفارم مقرر کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق ’’ستھرا کشمیر‘‘ صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ دیہی علاقوں کو بھی پروگرام کا حصہ بنایا جائے گا۔ گاؤں کی سطح پر گھروں سے کوڑا اٹھانے کے لیے منتخب بلدیاتی نمائندگان، یوتھ کونسلرز اور خواتین کونسلرز کے ساتھ مل کر اقدامات کیے جائیں گے۔
100 روزہ اصلاحاتی پروگرام میں گرین ایریاز کا قیام، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے لیے نئی آپریشنل گاڑیوں کی خریداری، ماڈل ویلیجز کا قیام اور شہروں کی خوبصورتی کے منصوبے بھی شامل ہیں۔
میئرز میونسپل کارپوریشنز اور دیگر بلدیاتی نمائندگان نے ’’ستھرا کشمیر‘‘ پروگرام کو سراہتے ہوئے صفائی کے نظام کی بہتری کے لیے نجی شعبے کے ساتھ بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
اجلاس میں آزاد کشمیر میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کی موجودہ صورتحال، ماحول پر اس کے اثرات، ’’ستھرا پنجاب‘‘ ماڈل اور نجی شعبے کے اشتراک سے رائج دیگر ویسٹ مینجمنٹ نظاموں پر بھی بریفنگ دی گئی۔








