سانگھڑ ضلع کا فارمرز آرگنائزیشن کنونشن پیرومل کے قریب گاؤں ایوب وسان میں منعقد ہوا، جس میں میرپورخاص ڈویژن کے سینکڑوں آبادگاروں نے شرکت کی، اس موقع پر فارمرز آرگنائزیشن کے رہنماؤں جاوید جونیجو، حاجی ایوب وسان، کلیم ہالیپوٹو، نصیر خان مری، مسعود وساڻ اور دیگر نے خطاب کیا
رہنماؤں نے کہا کہ ان کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں کے ادوار میں زراعت، آبادگاروں اور کسانوں کو مشکلات کا سامنا رہا ہے، انہوں نے کہا کہ عمران خان کی حکومت کے دور میں آبادگار اور کسان خوشحال تھے اور زرعی اجناس کے مناسب نرخ ملتے تھے، انہوں نے کہا کہ اس وقت سندھ کا آبادگار شدید مشکلات سے دوچار ہے

ملک میں پانی کی قلت نہ ہونے کے باوجود آبپاشی کے محکمے کی جانب سے وارابندی جاری ہے، جبکہ نارا سرکل کے آبادگاروں کو مبینہ طور پر پیسوں کے عوض پانی فراہم کیا جا رہا ہے، آبادگاروں کو زرعی اجناس کے مناسب نرخ نہیں مل رہے، جبکہ گندم کی درآمد بھی کی جارہی ہے، رہنماؤں کا کہنا تھا کہ زرعی کھاد اور ادویات کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں،
جبکہ آبادگاروں کو کسی قسم کا خاطر خواہ ریلیف نہیں دیا جا رہا۔ ان کے مطابق ملک میں مؤثر زرعی پالیسی کا فقدان ہے، اس وقت گنے کی فصل تیار ہے، لیکن سندھ کی بیشتر شوگر ملوں نے تاحال چمنیاں نہیں جلائیں، فارمرز آرگنائزیشن کے رہنماؤں نے دعویٰ کیا کہ غلط زرعی پالیسیوں کے باعث کپاس کی پیداوار بھی شدید متاثر ہوئی ہے
ان کے مطابق سندھ میں ہر سال تقریباً دو کروڑ کپاس کی گانٹھیں پیدا ہوتی تھیں، جبکہ رواں سال یہ پیداوار تقریباً ایک کروڑ گانٹھوں تک محدود رہنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت کو بھاری نقصان پہنچ رہا ہے، شرکاء نے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر سے مطالبہ کیا کہ محکمہ آبپاشی سندھ کے جاری اور مکمل ہونے والے منصوبوں، جن میں شاخوں کی کھدائی، شاخوں کو پکا کرنے اور ورلڈ بینک و ایشین بینک کے منصوبے شامل ہیں، میں مبینہ اربوں روپے کی کرپشن کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائی جائیں
فارمرز آرگنائزیشن کے رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ سندھ میں فوری طور پر وارابندی ختم کرکے ٹیل کے آبادگاروں کو ان کے حصے کا مکمل پانی فراہم کیا جائے، جبکہ زرعی کھاد اور ادویات پر سبسڈی دی جائے تاکہ آبادگاروں کو درپیش مشکلات کا ازالہ ہوسکے



