مظفرآباد: 8 اکتوبر 2005 کے قیامت خیز زلزلے کو 21 برس بیت گئے، تاہم تباہ کن سانحے کے اثرات اور بحالی کے ادھورے منصوبے آج بھی ماضی کی اس تباہی کی یاد دلاتے ہیں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق 2005 کے ہلاکت خیز زلزلے نے آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا کے ملحقہ اضلاع میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی، جس کے نتیجے میں تقریباً 80 ہزار افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ ہزاروں خاندان بے گھر ہوگئے۔
شدید زلزلے نے متعدد آبادیوں کو ملبے کے ڈھیروں میں تبدیل کردیا، گھر، اسکول، اسپتال اور دیگر بنیادی ڈھانچے تباہ ہوگئے اور متاثرہ علاقوں میں بڑے پیمانے پر امدادی و بحالی کا عمل شروع کیا گیا۔
تاہم دو دہائیاں گزرنے کے باوجود بحالی کا سفر مکمل نہیں ہوسکا۔ دستیاب معلومات کے مطابق ہزارہ ڈویژن میں بحالی کے 23 فیصد منصوبے تاحال نامکمل ہیں، جبکہ نیو بالاکوٹ سٹی کا منصوبہ بھی اب تک مکمل نہیں کیا جاسکا۔
اکیس برس بعد بھی متاثرہ علاقوں میں نامکمل منصوبے اس قدرتی سانحے کے دیرپا اثرات اور بحالی کے عمل میں درپیش مشکلات کی نشاندہی کرتے ہیں۔








